وہ باتیں جن سے قومیں ہو رہی ہیں نامور سیکھو

امریکہ میں ہونے والے ایک واقعے نے پوری دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ 11/9 کو ہوئے 9 برس کا عرصہ گزر گیا مگر اس کی بازگشت آج بھی مسلم دنیا بالخصوص پاکستان میں سنائی دے رہی ہے۔ اقوام عالم میں ہماری گنتی ایک ایسے ملک کے طور پر کی جاتی ہے جہاں دہشت گردی کو نہ صرف یہ کہ بڑھاوا دیا جاتا ہے بلکہ تواتر سے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ پوری دنیا کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔اس سے پہلے یہ الزام بھارت کی طرف سے لگایا جاتا تھا مگر اب تو حد ہی ہو گئی ہے کیوں کہ اب افغانستان جیسا ملک بھی پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے۔پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے۔

جب بات اس نکتے پر پہنچ جائے تو پھر آپ خود ہی سوچ سکتے ہیں کے عالمی سطح پر ہم کہاں کھڑے ہیں۔ طرہ یہ کہ جن پر قوم کی رہنمائی کی ذمہ داری تھی وہ خود بھی صرف اور صرف اقتدار کی کشمکش میں لگے ہوئے ہیں اور اقتدار کے حصول کے لیے اپنے بین الاقوامی آقاؤں کو خوش کرنے میں لگے ہیں۔کوئی حکومت میں آنے کے لیے یہ وعدہ کر کے آتا ہے کہ حضور آپ ہمیں آزمائیں ہم آپ کو دوسروں سے بہتر نتائج دیں گے۔ غرض غیروں کی جنگ اپنے ملک میں لڑتے لڑتے ہم نے خود اپنے ملک کا بیڑہ غرق کر دیاہے۔

آج کل وہی ملک ترقی کر رہے ہیں جہاں تعلیم نے اپنےقدم مضبوطی سے جما لیے ہیں اور قوم کے نوجوان جدید علوم سے آراستہ ہو کر اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں تعلیم کی کچھ خاص اہمیت نہیں ہے۔ موجودہ حکومت نے تو سب سے پہلے تعلیمی اخراجات کو یہ غیر ضروری قرار دیتے ہوئے تعلیمی اخراجات کو یہ کم کر دیا ہے۔ کوئی ان جعٖلی ڈگرو والوں کو سمجھائے بھی تو کیسے کہ اگر اخراجات کم کرنے ہیں تو اپنے اللے تللے ختم کریں اور دوروں کے نام پر بیرون ملک اپنے سیر سپاٹے ختم کریں۔ خیر یہ بات تو ضمناً آ گئی۔ کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ باتیں سیکھیں جن سے دنیا میں دیگر قوموں نے ترقی حاصل کی ہے۔ جب بقول اقبال گراں خواب چینی قوم بیدار ہو سکتی ہے تو پھر ہم میں کس چیز کی کمی ہے۔ ہاں اگر کمی ہے تو کسی ایسے رہنما کی جو قوم کی ایسی رہنمائی کرے جیسا کہ رہنمائی کرنے کا حق ہے۔

11/9 کے بعد سے پاکستان میں آئے دن خودکش حملےہو رہے ہیں جس میں اپنے ہی ملک کے بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ کر کہ ہم دنیا میں کوئی مقام حاصل کر سکتے ہیں؟ اگر پاکستان نے دنیا میں اپنا جائز مقام حاصل کرنا ہے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم دنیا میں اکیلے نہیں رہ سکتے ۔ہمیں دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم صرف اور صرف مارنے کاٹنے کی بات کرتے ہیں تو ہم باقی دنیا کو غلط پیغام دیتے ہیں۔

Advertisements
شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

ٹکٹ برائے فروخت۔ آخر کب تک؟

ہمارے ملک میں ایک چلن یہ ہے کہ اگر آپ بڑی چوری کریں تو آپ ملک کے معزز شہری بن جاتے ہیں اور ملکی اقتدار تک پہنچنے میں کافی سہولیات فراہم ہو جاتی ہیں۔ اگر مزید کامیابی حاصل کرنا ہو تو کسی بینک سے کروڑوں روپے قرض لے کر اسے معاف کر دینے کی روایت بھی عام ہے۔اب یہ قرض خور "اشرافیہ” اس قدر مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ کسی شریف آدمی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کانتخابات کے مراحل اس قدر مہنگے ہیں کے غریب آدمی انتخاب لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں بھی اپنا ٹکٹ کروڑوں روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ اب سامنے کی بات ہے کہ جو آدمی کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلی میں آئے گا اس کی پہلی ترجیح اپنے پیسے کی بازیابی سود سمیت ہو گی۔یہیں سے کرپشن کا وہ چکر شروع ہوتا ہے جو آج تک ختم نہیں ہو سکا ہے۔

سیاست میں کرپشن ختم کرنے کا ایک سہل طریقہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو ٹکٹ دیں اور ٹکٹ کے عوض ان سے بھاری معاوضہ طلب نہ کریں۔ ایسا کرنے سے ملک کے با شعور شہریوں میں سیاست میں حصہ لینے کی تحریک ہو گی۔ جب اچھے لوگ آگے آئیں گے تو سیاسی کلچر خود بخود تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں متحدہ قومی موومنٹ وہ واحد جماعت ہے جس کے امیدوار کو ایک بھی روپیہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کے ایم کیو ایم میں عوامی نمائیندوں ک احتساب کا عمل بہت مضبوط ہے۔ مگر افسوس کی با ت ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ تو بہت کیا جاتا ہے مگر اس کی اچھی باتوں کی تشہیر نہیں کی جاتی۔


 

شائع کردہ از Uncategorized | تبصرہ کریں

کچھ کر لو نوجوانو اٹھتی جوانیاں ہیں

ہم سب سیاست کو برا سمجھتے ہیں اور پنے بچوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ سیاست ایک گندی نالی ہے اس لیے ہمیشہ اس سے بچ کے رہنا چاہیے۔ مگر افسوس ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں روزانہ اس گندی نالی سے ہو کر جانا پڑتا ہے۔ ہم روز اس گندی نالی میں گرتے ہیں اور اسے برا بھلا کہتے ہیں۔ مگر ہم میں سے کوئی بھی اس گندی نالی میں ایک بالٹی صاف پانی نہیں ڈالتا تا کہ یہ نالی کچھ صاف ہو اور عفونت کچھ کم ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوگ چاہتے ہیں کہ سیاست میں اچھے لوگ آئیں تو ہمیں خود پہل کرنی ہوگی۔ اچھے لوگ آسمان سے نہیں اتریں گے۔ ہم چاہیں بھی تو سیاست سے لا تعلق نہیں رہ سکتے کیوں کہ سیاسی عمل سے ہی حکومت بنتی ہے اور یہ حکومتی اداروں کی نا اہلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہماری زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اب اگر ہم اپنی سیاسی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کرتے تو پھر ہمیں حکومت سے بھی شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔

قوموں کی زندگی میں نوجوان سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی قوم کے نوجوان ہی اپنی قوم کا بیڑہ پار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے قوم کے نو جوانوں کو چاہیے کے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر جب عملی زندگی میں قدم رکھیں تو اپنی سیاسی زمہ داریاں بھی محسوس کریں اور دوسرے لوگوں میں سیاسی شعور بیدار کریں۔ اگر ہم سب لوگ اپنی سیاسی ذمہ داریاں ادا کریں گے تو یقناً ملک کا سیاسی کلچر تبدیل ہو گا ۔

شائع کردہ از پاکستان | 3 تبصرے

ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگ گراں اور

پاکستان کی سیاست میں متحدہ قومی موومنٹ نے کم از کم ایک خشگوار تبدیلی تو لائی ہے۔ ایم کیو ایم کے سیاسی افق پر نمودار ہونے کے بعد سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان بھی بغیر کچھ روپیہ پیسہ خرچ کیے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کی نہ صرف یہ کے خواہش کر سکتے ہیں بلکہ حقیقیتاً وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے شروع دن سے ہی ہمیشہ قابل اور دیانت دار لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجا ہے۔ صحیح بھی ہے کیوں کہ کہتے ہیں جو تن لاگے سو تن جانے ۔ سو غریب لوگوں کہ مسائل وہی سمجھ سکتا ہے اور ان کو حل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جو خود ان مسائل سے گزر کر آیا ہے۔ جس نے سرکاری ہسپتال میں لائین لگا کے پرچی کبھی نہ بنوائی ہو، جو کبھی بسوں میں نہ سفر کرتا ہو آخر وہ کس طرح ان مسائل کے حل کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔

یہ ایک ایسا کام ہے جس نے ایم کیوایم کو یقیناً دوسری سیاسی جماعتوں سے ممتاز کر دیا ہے۔ اور یہی وہ کام ہے جس کی وجہ سے دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایم کیو ایم کی شدید مخالفت کی جاتی ہے۔آخر جن لوگوں کی دولت اور ثروت کا دارومدار حکومتی خزانے کی لوٹ مار ہو وہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کی موروثی سیاست ختم ہو جائے اور عام لوگ اسمبلیوں میں آ کر حکومت کی باگ ڈور سنبھال لیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب الطاف حسین نے جاگیردارانہ، سرمایہ کارانہ اور وڈیرانہ سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے کی بات کی تو ان لوگوں کی طرف سے اور ان کے نمک پروردوں کی طرف سے اس کی مخالفت میں شوروغوغا کیا جا رہا ہے۔

مگر ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگ گراں اور

شائع کردہ از پاکستان | ٹیگ شدہ , , | تبصرہ کریں

تعلیم اور ہمارے سیاستدان

پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ نے اس دفعہ تعلیم پر سب سے پہلے شب خوں مارا اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس میں زبردست کٹوتی کر دی۔ ایک فوجی آمر کے دور میں اعلی تعلیم کے شعبے میں جتنی ترقی ہوئی اب اس جمہوری دور میں اسے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے پیسے روک لیے گئے ہیں چنانچہ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ملک کی یونیورسٹیوں کےپاس اب تنخواہ دینے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض یونیورسٹیوں نے اپنے ملازمین کو ادائگیاں کرنے کے لیے بحالت مجبوری بینکوں سے قرضہ لیا ہے۔

تعلیم کے لیے پیسوں کی عدم دستیابی سے سب سےزیادہ طالبعلموں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جنھیں ہائیر ایجوکیشن کمین کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا تھا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے اکثر کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آنا ہو گا۔

جہاں انگوٹھا چھاپ لوگ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جائیں وہاں تعلیم کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ جہاں جعلی ڈگریوں کے بھرمار ہو اور جعلی ڈگری والے لوگوں کی انتخابی مہم ملک کا وزیر اعظم خود چلاتا ہو وہاں بھلا تعلیم کی کیا قدر ہو گی۔

پھر یہ جاگیردار اور وڈیرے چاہتے بھی تو نہیں کے غریب کا بچہ بھی اچھی تعلیم حاصل کرے کجا یہ کہ وہ اعلی تعلیم کے لیے حکومت کے خرچے پر بیرون ملک پڑھنے چلا جائے۔ ان کا تو منشور ہی یہ ہے کہ غریب کو محکوم بنا کر رکھو۔ اگر غریب کے بچے نے اعلی تعلیم حاصل کر لی تو پھر وہ حقوق کی بات کرے گا۔

کہتے ہیں کہ صدر زرداری نے برطانیہ سے گریجویشن کیا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ صدر زرداری نے میٹرک اور انٹر کہاں سے کیا ہے؟کیوں کہ ہمیں اس میں بھی شک ہے کہ صدر محترم نے یہ دو امتحان پاس کیے ہیں۔ مزید برآں لندن کے جس ادارے کا نام بتایا جاتا ہے اس کا پتا بھی بتایا جائے آخر شرمانے کی کیا ضرورتے ہے مگر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اب جعلی ڈگری کی اصطلاح تبدیل کر کے دستی ڈگری کر دی جائے تو مناسب ہو گا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق کا کام شروع کیا گیا تھا جو تا حال ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نالائقی اور ساز باز کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ آخر کمیشن کے چیر مین لغاری صاحب بھی تو پیپلز پارٹی کے پرانے نمک خوار ہیں۔ کسی طرح تو حق نمک ادا کریں گے ہی۔ غور کرنے کی بات ہے کے ڈگریوں کی تصدیق میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے۔

اگر جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال اتنا مشکل کام ہے تو پھر اتںی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ باقی لوگوں کو بھی استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔

شائع کردہ از Uncategorized | ٹیگ شدہ , | 2 تبصرے

شفق کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

مملکت خدا داد پاکستان اپنے قیام کے فوراً بعد سے ہی ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور اس کے کچھ عرصے بعد لیاقت علی خان کو بھی ایک گہری شازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔ قائد ملت کی شہادت کے بعد سے پاکستان کو کبھی بھی سیاسی اور معاشی استحکام نصیب نہیں ہوا۔ ایک بحران سے گزرتے ہوئے آج 63 سال کا عرصہ گزر گیا ہے مگر ہنگاموں کی رونق ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔

آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد فوج نے ملک کے اقتدار اعلی پر قبضہ کر لیا۔ مارشل لا کے ایک طویل عرصے کے بعد ملک سیاستدانوں اور فوج کے جنرلوں کی ہوس اقتدار کے نتیجے میں دو لخت ہو گیا۔ مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش کے نام سے ابھرا۔ مگر کسی نےملک کے ٹوٹنے سے عبرت حاصل نہیں کی۔ اقتدار کی رسہ کشی کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہوا اور حکومت میں رہنے کے لیے ہر ہتھکنڈے کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔

ان ہتھکنڈوں کا استعمال تا حال جاری ہے۔ سیاستدانوں کی دولت دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے اور غریب آدمی کے لیے دال روٹی بھی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ ہوگا مگر یہ انتقام پاکستان کی عوام سے لیا جا رہا ہے۔ کیا ایسی جمہوریت کو آمریت سے بہتر کہا جا سکتا ہے جہاں اشیائے خوردونوش میں اضافہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ قیمتیں آمریت کے دور سے کئی سو گنا زیادہ ہو گئی ہیں۔ مگر کیا کیجیے کہ قوم کو یہ افیون دی جا رہی ہے کہ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ملک کے اقتدار پر فوج کا قبضہ ہونا چاہیے مگر یہ بھی نا ہو کہ اقتدار کی ہر شاخ پر کوئی جمہوری چور بیٹھا شب و روز اپنی دولت میں اضافہ کرنے میں مصروف ہو۔

اے پاکستان کے لوگوں اگر اب بھی نا جاگو گے تو کب جاگو گے؟ کیا تم اللہ کے اس قانون کو بھول گئے کہ ہم نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔ سیاست دانوں کہ لبادے میں چھپے ہوے جاگیرداروں اور وڈیروں اور سرمایہ کاروں کو پہچانو اور اپنے حق کے لیے جدو جہد کرو۔ کیوں کہ آسمان سے کوئی فرشتہ نہیں آئے گا ہماری مدد کرنے کے لیے۔

شائع کردہ از پاکستان | ٹیگ شدہ , | 3 تبصرے

پاکستانی جمہوریت اور غریب عوام

حضرت علامہ اقبال  نے کہا تھا

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ  جس میں
بندوں کو  گنا  کرتے  ہیں  تولا  نہیں  کرتے

اسی طرح ایک اور جگہ فرمایہ کہ

گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ  از مغز دو صد  خر فکر  انسانے نمی آید

یعنی اقبال جمہوریت کے چنداں قائل نظر نہیں آتے۔ اب اقبال ہمارے قومی شاعر بھی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اقبال ایک بہت عظیم فلسفی اور شاعر ہیں اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اقبال جمہوریت کو کیوں اچھا نہیں سمجھتے۔ پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو اقبال کا کہنا کچھ غلط بھی نہِیں لگتا۔

ہمارے ملک میں جمہوریت صرف انتخابات کا نام ہے۔ انتخابات کے دوسرے دن سے ہی جمہوریت ختم ہو جاتی ہے اور چور بازاری اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ انتخابات صرف ایک دروازہ ہے جس سے گزر کر جمہوریت کے راستے پر جانا ہوتا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جمہوریت کا تو خوب خوب شور مچایا جاتا ہے مگر جمہور کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ جمہور صرف ووٹ ڈال کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شائد اب ان کی قسمت بدل جائے گی مگر صورت حال ہے کہ بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔

اب ایسی جمہوریت کس کام کی جس میں غریب کا تعلیم یافتہ بچہ نوکری کے لیے در بدر ٹھوکریں کھاتا پھرے اور امیر صرف اپنی دولت اور ثروت کے زور پر ملک کے وسائل پر قابض ہو جائے۔

پاکستان کے عوام کو سوچنا چاہیے کہ آخر کب تک وہ ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے۔ اگر انھیں اپنی حالت بدلنی ہے تو انھیں خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔

شائع کردہ از پاکستان | ٹیگ شدہ | تبصرہ کریں