پاکستانی جمہوریت اور غریب عوام

حضرت علامہ اقبال  نے کہا تھا

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ  جس میں
بندوں کو  گنا  کرتے  ہیں  تولا  نہیں  کرتے

اسی طرح ایک اور جگہ فرمایہ کہ

گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ  از مغز دو صد  خر فکر  انسانے نمی آید

یعنی اقبال جمہوریت کے چنداں قائل نظر نہیں آتے۔ اب اقبال ہمارے قومی شاعر بھی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اقبال ایک بہت عظیم فلسفی اور شاعر ہیں اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اقبال جمہوریت کو کیوں اچھا نہیں سمجھتے۔ پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو اقبال کا کہنا کچھ غلط بھی نہِیں لگتا۔

ہمارے ملک میں جمہوریت صرف انتخابات کا نام ہے۔ انتخابات کے دوسرے دن سے ہی جمہوریت ختم ہو جاتی ہے اور چور بازاری اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ انتخابات صرف ایک دروازہ ہے جس سے گزر کر جمہوریت کے راستے پر جانا ہوتا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جمہوریت کا تو خوب خوب شور مچایا جاتا ہے مگر جمہور کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ جمہور صرف ووٹ ڈال کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شائد اب ان کی قسمت بدل جائے گی مگر صورت حال ہے کہ بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔

اب ایسی جمہوریت کس کام کی جس میں غریب کا تعلیم یافتہ بچہ نوکری کے لیے در بدر ٹھوکریں کھاتا پھرے اور امیر صرف اپنی دولت اور ثروت کے زور پر ملک کے وسائل پر قابض ہو جائے۔

پاکستان کے عوام کو سوچنا چاہیے کہ آخر کب تک وہ ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے۔ اگر انھیں اپنی حالت بدلنی ہے تو انھیں خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔

Advertisements
This entry was posted in پاکستان and tagged . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s