تعلیم اور ہمارے سیاستدان

پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ نے اس دفعہ تعلیم پر سب سے پہلے شب خوں مارا اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس میں زبردست کٹوتی کر دی۔ ایک فوجی آمر کے دور میں اعلی تعلیم کے شعبے میں جتنی ترقی ہوئی اب اس جمہوری دور میں اسے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے پیسے روک لیے گئے ہیں چنانچہ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ملک کی یونیورسٹیوں کےپاس اب تنخواہ دینے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض یونیورسٹیوں نے اپنے ملازمین کو ادائگیاں کرنے کے لیے بحالت مجبوری بینکوں سے قرضہ لیا ہے۔

تعلیم کے لیے پیسوں کی عدم دستیابی سے سب سےزیادہ طالبعلموں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جنھیں ہائیر ایجوکیشن کمین کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک بھیجا گیا تھا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے اکثر کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آنا ہو گا۔

جہاں انگوٹھا چھاپ لوگ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جائیں وہاں تعلیم کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ جہاں جعلی ڈگریوں کے بھرمار ہو اور جعلی ڈگری والے لوگوں کی انتخابی مہم ملک کا وزیر اعظم خود چلاتا ہو وہاں بھلا تعلیم کی کیا قدر ہو گی۔

پھر یہ جاگیردار اور وڈیرے چاہتے بھی تو نہیں کے غریب کا بچہ بھی اچھی تعلیم حاصل کرے کجا یہ کہ وہ اعلی تعلیم کے لیے حکومت کے خرچے پر بیرون ملک پڑھنے چلا جائے۔ ان کا تو منشور ہی یہ ہے کہ غریب کو محکوم بنا کر رکھو۔ اگر غریب کے بچے نے اعلی تعلیم حاصل کر لی تو پھر وہ حقوق کی بات کرے گا۔

کہتے ہیں کہ صدر زرداری نے برطانیہ سے گریجویشن کیا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ صدر زرداری نے میٹرک اور انٹر کہاں سے کیا ہے؟کیوں کہ ہمیں اس میں بھی شک ہے کہ صدر محترم نے یہ دو امتحان پاس کیے ہیں۔ مزید برآں لندن کے جس ادارے کا نام بتایا جاتا ہے اس کا پتا بھی بتایا جائے آخر شرمانے کی کیا ضرورتے ہے مگر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اب جعلی ڈگری کی اصطلاح تبدیل کر کے دستی ڈگری کر دی جائے تو مناسب ہو گا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق کا کام شروع کیا گیا تھا جو تا حال ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نالائقی اور ساز باز کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ آخر کمیشن کے چیر مین لغاری صاحب بھی تو پیپلز پارٹی کے پرانے نمک خوار ہیں۔ کسی طرح تو حق نمک ادا کریں گے ہی۔ غور کرنے کی بات ہے کے ڈگریوں کی تصدیق میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے۔

اگر جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال اتنا مشکل کام ہے تو پھر اتںی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ باقی لوگوں کو بھی استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔

Advertisements
This entry was posted in Uncategorized and tagged , . Bookmark the permalink.

2 Responses to تعلیم اور ہمارے سیاستدان

  1. RIZWAN IRAQI نے کہا:

    this is a brilliant topic brilliant write

  2. Imtiaz Rasheed نے کہا:

    Is it true? Negation to Education. And in Democratic Govt. We condemned it.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s