شفق کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

مملکت خدا داد پاکستان اپنے قیام کے فوراً بعد سے ہی ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی دنیا سے رخصت ہو گئے اور اس کے کچھ عرصے بعد لیاقت علی خان کو بھی ایک گہری شازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔ قائد ملت کی شہادت کے بعد سے پاکستان کو کبھی بھی سیاسی اور معاشی استحکام نصیب نہیں ہوا۔ ایک بحران سے گزرتے ہوئے آج 63 سال کا عرصہ گزر گیا ہے مگر ہنگاموں کی رونق ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔

آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد فوج نے ملک کے اقتدار اعلی پر قبضہ کر لیا۔ مارشل لا کے ایک طویل عرصے کے بعد ملک سیاستدانوں اور فوج کے جنرلوں کی ہوس اقتدار کے نتیجے میں دو لخت ہو گیا۔ مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش کے نام سے ابھرا۔ مگر کسی نےملک کے ٹوٹنے سے عبرت حاصل نہیں کی۔ اقتدار کی رسہ کشی کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہوا اور حکومت میں رہنے کے لیے ہر ہتھکنڈے کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔

ان ہتھکنڈوں کا استعمال تا حال جاری ہے۔ سیاستدانوں کی دولت دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے اور غریب آدمی کے لیے دال روٹی بھی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ ہوگا مگر یہ انتقام پاکستان کی عوام سے لیا جا رہا ہے۔ کیا ایسی جمہوریت کو آمریت سے بہتر کہا جا سکتا ہے جہاں اشیائے خوردونوش میں اضافہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ قیمتیں آمریت کے دور سے کئی سو گنا زیادہ ہو گئی ہیں۔ مگر کیا کیجیے کہ قوم کو یہ افیون دی جا رہی ہے کہ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ملک کے اقتدار پر فوج کا قبضہ ہونا چاہیے مگر یہ بھی نا ہو کہ اقتدار کی ہر شاخ پر کوئی جمہوری چور بیٹھا شب و روز اپنی دولت میں اضافہ کرنے میں مصروف ہو۔

اے پاکستان کے لوگوں اگر اب بھی نا جاگو گے تو کب جاگو گے؟ کیا تم اللہ کے اس قانون کو بھول گئے کہ ہم نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔ سیاست دانوں کہ لبادے میں چھپے ہوے جاگیرداروں اور وڈیروں اور سرمایہ کاروں کو پہچانو اور اپنے حق کے لیے جدو جہد کرو۔ کیوں کہ آسمان سے کوئی فرشتہ نہیں آئے گا ہماری مدد کرنے کے لیے۔

Advertisements
This entry was posted in پاکستان and tagged , . Bookmark the permalink.

3 Responses to شفق کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

  1. کامران نے کہا:

    اچھی تحریر ھے ۔۔

  2. کامران نے کہا:

    اس لنک پہ آپ ابنا بلاگ رجسٹر کراسکتے ھے ۔بہاں موجود بلاگ پہ تبصرہ بھی۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s