ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگ گراں اور

پاکستان کی سیاست میں متحدہ قومی موومنٹ نے کم از کم ایک خشگوار تبدیلی تو لائی ہے۔ ایم کیو ایم کے سیاسی افق پر نمودار ہونے کے بعد سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان بھی بغیر کچھ روپیہ پیسہ خرچ کیے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کی نہ صرف یہ کے خواہش کر سکتے ہیں بلکہ حقیقیتاً وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے شروع دن سے ہی ہمیشہ قابل اور دیانت دار لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجا ہے۔ صحیح بھی ہے کیوں کہ کہتے ہیں جو تن لاگے سو تن جانے ۔ سو غریب لوگوں کہ مسائل وہی سمجھ سکتا ہے اور ان کو حل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جو خود ان مسائل سے گزر کر آیا ہے۔ جس نے سرکاری ہسپتال میں لائین لگا کے پرچی کبھی نہ بنوائی ہو، جو کبھی بسوں میں نہ سفر کرتا ہو آخر وہ کس طرح ان مسائل کے حل کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔

یہ ایک ایسا کام ہے جس نے ایم کیوایم کو یقیناً دوسری سیاسی جماعتوں سے ممتاز کر دیا ہے۔ اور یہی وہ کام ہے جس کی وجہ سے دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایم کیو ایم کی شدید مخالفت کی جاتی ہے۔آخر جن لوگوں کی دولت اور ثروت کا دارومدار حکومتی خزانے کی لوٹ مار ہو وہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کی موروثی سیاست ختم ہو جائے اور عام لوگ اسمبلیوں میں آ کر حکومت کی باگ ڈور سنبھال لیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب الطاف حسین نے جاگیردارانہ، سرمایہ کارانہ اور وڈیرانہ سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے کی بات کی تو ان لوگوں کی طرف سے اور ان کے نمک پروردوں کی طرف سے اس کی مخالفت میں شوروغوغا کیا جا رہا ہے۔

مگر ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگ گراں اور

Advertisements
This entry was posted in پاکستان and tagged , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s