ٹکٹ برائے فروخت۔ آخر کب تک؟

ہمارے ملک میں ایک چلن یہ ہے کہ اگر آپ بڑی چوری کریں تو آپ ملک کے معزز شہری بن جاتے ہیں اور ملکی اقتدار تک پہنچنے میں کافی سہولیات فراہم ہو جاتی ہیں۔ اگر مزید کامیابی حاصل کرنا ہو تو کسی بینک سے کروڑوں روپے قرض لے کر اسے معاف کر دینے کی روایت بھی عام ہے۔اب یہ قرض خور "اشرافیہ” اس قدر مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ کسی شریف آدمی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کانتخابات کے مراحل اس قدر مہنگے ہیں کے غریب آدمی انتخاب لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں بھی اپنا ٹکٹ کروڑوں روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ اب سامنے کی بات ہے کہ جو آدمی کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلی میں آئے گا اس کی پہلی ترجیح اپنے پیسے کی بازیابی سود سمیت ہو گی۔یہیں سے کرپشن کا وہ چکر شروع ہوتا ہے جو آج تک ختم نہیں ہو سکا ہے۔

سیاست میں کرپشن ختم کرنے کا ایک سہل طریقہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو ٹکٹ دیں اور ٹکٹ کے عوض ان سے بھاری معاوضہ طلب نہ کریں۔ ایسا کرنے سے ملک کے با شعور شہریوں میں سیاست میں حصہ لینے کی تحریک ہو گی۔ جب اچھے لوگ آگے آئیں گے تو سیاسی کلچر خود بخود تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں متحدہ قومی موومنٹ وہ واحد جماعت ہے جس کے امیدوار کو ایک بھی روپیہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کے ایم کیو ایم میں عوامی نمائیندوں ک احتساب کا عمل بہت مضبوط ہے۔ مگر افسوس کی با ت ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ تو بہت کیا جاتا ہے مگر اس کی اچھی باتوں کی تشہیر نہیں کی جاتی۔


 

Advertisements
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s